حورین نہین مومن کی نصیبو نمین جو ہوتین — مومن خاں مومن
“Had the houris not been written in the believer's fate at all, why would such a wretched end emerge from mere mockery alone?”
معنی
اگر مومن کے نصیب میں حوریں لکھی ہی نہ ہوتیں، تو محض طنز و تمسخر سے ایسا برا انجام کیوں نکلتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک نرم سی شکایت اور طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر مومن کی قسمت میں حوریں لکھی ہی نہ ہوتیں تو اس کا ایسا برا انجام کیوں ہوتا۔ یہاں طنز اور مذاق سے جو بد انجام نکلتا ہے وہ اشارہ کرتا ہے کہ جنت کی امید اور لالچ انسان کو کس راہ پر لے جاتی ہے۔ گہرائی میں دیکھیں تو یہ آخرت کے وعدوں پر ایک ہلکی سی چوٹ ہے کہ کبھی کبھی انعام کی چاہت ہی آدمی کا انجام بگاڑ دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
