ہر اک سلی وس بزم میں شب پوچھتی تھی نام — مومن خاں مومن

ہر اک سلی وس بزم میں شب پوچھتی تھی نام تہا لطف جو کوی میرا ہم نام نکلتا

“At every gathering through the night each one would ask my name; What joy it was whenever someone bearing my own name came forth.”

— مومن خاں مومن

معنی

رات کی ہر محفل میں ہر کوئی میرا نام پوچھتا تھا؛ کیا لطف ہوتا جب کوئی میرے ہی نام والا سامنے آتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر رات کی ایک محفل کا منظر کھینچتا ہے جہاں ہر کوئی اس کا نام پوچھتا پھرتا ہے، اور سب سے پیاری بات تب ہوتی ہے جب کسی اور کا نام بھی اسی جیسا نکل آتا ہے۔ گویا اپنے نام کی گونج کسی اور میں سن کر دل کو ایک عجیب سی خوشی ملتی ہے — پہچانے جانے اور تنہا نہ ہونے کا احساس۔ گہرائی میں یہ شعر اس لطیف خوشی کی بات کرتا ہے جو کسی ہم مزاج، ہم نام کے مل جانے سے دل کو نصیب ہوتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.