جب جانشی تاثیر کہ دشمن بہی وہانسی — مومن خاں مومن
“Then would you know the truth of it, O turning wheel of days, if even your foe had come forth from that place, as I did, in my own way.”
معنی
تب تُو اثر کو جانتا، اے گردشِ ایام، اگر تیرا دشمن بھی میری طرح اُس جگہ سے نکلتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر وقت کے پہیے یعنی 'گردشِ ایام' کو للکارتا ہے — اے زمانے، تُو میرے دکھ کی اصل حقیقت تب ہی جان پاتا جب تیرا اپنا دشمن بھی اُسی آزمائش سے گزر کر میری طرح نکلتا۔ 'گردش' یعنی مسلسل گھومتا ہوا چکر اُن مصیبتوں کی خوبصورت علامت ہے جو وقت ہم پر لادتا ہے۔ گہرائی میں ایک خاموش فخر اور درد ہے کہ میری تکلیف اتنی شدید رہی کہ اُس کا سچ تبھی کھلتا جب کوئی اور بھی عین میری طرح اُس راہ سے گزر کر دکھاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
