کرتی جو مجھی یاد شب وصل عدو تم — مومن خاں مومن

کرتی جو مجھی یاد شب وصل عدو تم کیا صبح کو خورشید نہ تا شام نکلتا

“Had you but thought of me on that night of union with my rival, would the sun not have risen at dawn to shine till evening came?”

— مومن خاں مومن

معنی

اگر تم مجھے اپنے رقیب کے ساتھ وصل کی اُس رات یاد کرتیں، تو کیا صبح کو سورج طلوع نہ ہوتا اور شام تک نہ چمکتا؟

تشریح

اس شعر میں عاشق کی جلن اور تڑپ، دونوں ایک نرم طعنے میں گُھل جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ جس رات تم میرے رقیب کے ساتھ وصل میں تھیں، اگر اُس رات تم نے مجھے ذرا بھی یاد کیا ہوتا، تو کیا سورج یوں سکون سے صبح نکل کر شام تک چمکتا رہتا؟ یعنی میری یاد تمہاری اُس رات کو مکمل نہ ہونے دیتی، وقت جیسے تھم جاتا۔ یہاں سورج کا طلوع و غروب محض وقت کا گزرنا نہیں بلکہ عاشق کے دل کی آگ اور بے قراری کی علامت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.