کیا کہتی نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ — مومن خاں مومن

کیا کہتی نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ سن سنکی وہ چکا ہی کہ میں کچھ نہیں کہتا

“Why should I blame my fate, when the complaints of rivals He's grown so weary hearing, that I say not a word.”

— مومن خاں مومن

معنی

میں اپنے نصیب سے کیا شکایت کروں، جب رقیبوں کے شکوے سن سن کر وہ اتنا تھک چکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا۔

تشریح

اس شعر میں ایک نرم سی شکایت پوشیدہ ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ اب وہ اپنی قسمت کو کیا الزام دے، جب حال یہ ہے کہ محبوب اغیار کی شکایتیں سن سن کر اتنا تنگ آ چکا ہے کہ اب خود خاموش ہو گیا ہے—کچھ کہتا ہی نہیں۔ یہاں اغیار یعنی رقیب مسلسل چغلیاں کرتے رہے، اور یہ خاموشی اسی تھکن کا نتیجہ ہے۔ گہرائی یہ ہے کہ اب سکوت ہی اس کا جواب بن چکا ہے، اور عاشق اسے اپنی بدقسمتی نہیں بلکہ حالات کی مجبوری مان بیٹھا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.