ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنادوں — مومن خاں مومن
“The preacher—if I wished, I'd set him straight this very hour, but fear of God restrains me, so I say not a single word.”
معنی
اگر میں چاہوں تو ناصح کو ابھی ٹھیک کر دوں، مگر مجھے خدا کا خوف ہے، اس لیے میں کچھ نہیں کہتا۔
تشریح
اس شعر میں ایک پیاری سی شرارت چھپی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ چاہے تو اس نصیحت کرنے والے ناصح کو ابھی اسی وقت سیدھا کر دے، اس کی زبان بند کر دے — مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ کیوں؟ کیونکہ اسے خدا کا خوف ہے، اور اسی طنز میں گہرا معنی پوشیدہ ہے — شاعر خاموشی کو اپنی بڑائی اور صبر کا ہتھیار بنا لیتا ہے، گویا کہہ رہا ہو کہ چپ رہنا کمزوری نہیں بلکہ اصل طاقت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
