مین بولون تو چپ ہوتی مین اب چپ ہی تک — مومن خاں مومن
“If I speak, you fall silent—so now I keep silent too; It is an unjust quarrel that I say nothing at all.”
معنی
اگر میں بولوں تو تم چپ ہو جاتی ہو، اس لیے اب میں ہی چپ رہتا ہوں؛ یہ ایک ناحق جھگڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا۔
تشریح
اس شعر میں دو دلوں کی وہ نازک کشمکش ہے جہاں بات چیت کا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں بولتا ہوں تو تم خاموش ہو جاتے ہو، سو اب میں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ہے—مگر اس خاموشی کو تم میری ناراضی سمجھ بیٹھے ہو۔ حقیقت میں یہ ایک بے جا شکایت ہے، کیونکہ میرا چپ رہنا غصہ نہیں بلکہ تمہاری خاموشی کا احترام ہے۔ یہاں خاموشی بھی ایک زبان بن جاتی ہے جو غلط فہمی میں ڈھل جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
