سنتا نہیں وہ ورنہ یہہ سرگوشی اغیار — مومن خاں مومن
“He does not hear—else, this soft whispering of the rivals, do you think I bear it gladly, that I say not a word?”
معنی
وہ سنتا ہی نہیں، ورنہ دشمنوں کی یہ دھیمی سرگوشی — کیا مجھے یہ گوارا ہے کہ میں کچھ نہ کہوں؟
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنی خاموشی کا بھید کھولتا ہے۔ رقیب محبوب کے کان میں سرگوشیاں کر رہے ہیں، اس کے خلاف چغلیاں کھا رہے ہیں، مگر محبوب انہیں سنتا ہی نہیں — اور یہی ایک بات شاعر کو چپ رہنے دیتی ہے۔ ورنہ بھلا کیسے گوارا ہوتا کہ وہ ان پھسپھساہٹوں کو سن کر بھی خاموش رہے؟ یہاں خاموشی بے بسی نہیں بلکہ محبوب کے بھروسے پر ٹکا ایک نازک سکون ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
