غزل

यार मेरा बहुत है यार-फ़रेब

यार मेरा बहुत है यार-फ़रेब
میر تقی میر· Ghazal· 4 shers

یہ غزل دھوکہ دہی اور زندگی کے تعلقات کی عدم استحکام کے موضوع پر ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ ہر رشتے اور وعدے میں کوئی نہ کوئی فریب چھپا ہے۔ یہ عشق کے وہم اور دنیا کی فانیت کے سبب عاشق کو گہری مایوسی اور تنبیہ کا احساس دلاتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
यार मेरा बहुत है यार-फ़रेब मक्र है अहद सब क़रार-फ़रेब
یار میرا بہت ہے یار فریب مکر ہے عہد سب قرار فریب
یار، میری دوستی میں بہت فریب ہے؛ ہر وعدہ ایک دھوکہ دہی کا وہم ہے۔
2
राह रखते हैं उस के दाम से सैद है बला कोई वो शिकार-फ़रेब
راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صید ہے بلا کوئی وہ شکار فریب
राह رکھتے ہیں اس کے دام سے سید، ہے بلا کوئی وہ شکار-فریب۔ (یعنی، سید کی قدر قسمت یا تقدیر کرتی ہے؛ وہ کسی جادو، بلا، شکار یا فریب کا نشانہ نہیں ہے۔)
3
ओहदे से निकलें किस तरह आशिक़ एक अदा उस की है हज़ार-फ़रेब
عہدے سے نکلیں کس طرح عاشق ایک ادا اس کی ہے ہزار فریب
شاعر پوچھتا ہے کہ وہ کس طرح اس حالت سے نکلے گا، کیونکہ اس کی ایک ادا میں ہزار فراعب ہیں۔
4
इल्तिफ़ात-ए-ज़माना पर मत जा 'मीर' देता है रोज़गार-फ़रेब
التفات زمانہ پر مت جا میرؔ دیتا ہے روزگار فریب
دنیا کی مہربانی پر مت جا، 'میر' کہتا ہے کہ یہ محض ایک فریب روزگار ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.