غزل
रही न पुख़्तगी आलम में दूर ख़ामी है
रही न पुख़्तगी आलम में दूर ख़ामी है
یہ غزل دنیا کے حال اور انسانوں کے رویے پر طنز کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی مکمل چیز نہیں، اور لوگوں کے کردار پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
रही न पुख़्तगी आलम में दूर ख़ामी है
हज़ार हैफ़ कमीनों का चर्ख़ हामी है
رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے
ہزار حیف کمینوں کا چرخ حامی ہے
عالم میں مکمل پن کہیں نہیں ہے، مگر ہزاروں گندوں کی اتفاق کی گھومتی چکر ابھی بھی چل رہی ہے۔
2
न उठ तो घर से अगर चाहता है हूँ मशहूर
नगीं जो बैठा है गड़ कर तो कैसा नामी है
نہ اٹھ تو گھر سے اگر چاہتا ہے ہوں مشہور
نگیں جو بیٹھا ہے گڑ کر تو کیسا نامی ہے
اگر تم گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہتے، مگر مشہور ہونا چاہتے ہو، تو یہ کیسی پہچان ہے۔
3
हुई हैं फ़िक्रें परेशान 'मीर' यारों की
हवास-ए-ख़मसा करे जम्अ' सो 'निज़ामी' है
ہوئی ہیں فکریں پریشان میرؔ یاروں کی
حواس خمسہ کرے جمع سو نظامیؔ ہے
میرے دوستو، میرے خیالات پریشان ہو گئے ہیں، کیونکہ نظامی وہ ہے جو ہر طرح کی خواہشات کو جمع کرتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
