مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھ — میر تقی میر

مرض ہی عشق کا بے ڈول ہے کچھ بہت کرتے ہیں اپنی سی دوا ہم

“The ailment of love is something unsteady, We ourselves administer its cure.”

— میر تقی میر

معنی

شاعِر کہتا ہے کہ عشق کا مرض ہی کچھ بے ڈول ہے، اور ہم خود اس کا علاج کرتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر عشق کی اس بے باک اور بے قابو بیماری کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ عشق کا مرض کوئی سادہ چیز نہیں.... اس کا علاج بھی دل کے اندر ہی ڈھونڈ لیا جاتا ہے، ہمیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.