غزل
दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक
दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक
یہ غزل زندگی کے ہر اہم موڑ تک ساتھ نبھانے اور امید قائم رکھنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے منزل کتنی بھی دور کیوں نہ ہو، اس تک پہنچنے کی لگن نہیں چھوڑنی چاہیے۔ یہ ہمیں ہر مشکل میں حوصلہ اور ہمت برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक
हाथ पहुँचा न पा-ए-क़ातिल तक
دست و پا مارے وقتِ بسمیل تک، ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک۔ یعنی، ہاتھ کسی مبارک نشانی کے وقت تک نہیں پہنچا، نہ وہ قاتل کے قدم تک پہنچا۔
2
का'बा पहुँचा तो क्या हुआ ऐ शैख़
सई कर टुक पहुँच किसी दिल तक
اے شاعر، کا‘با پہنچنا کیا بات ہے؟ سب سے ضروری تو دل تک پہنچنا ہے۔
3
दरपय महमिल उस के जैसे जरस
मैं भी नालाँ हूँ साथ मंज़िल तक
اس کا مطلب ہے کہ جس طرح محفل کی رونق اس (شخص) کے جیسے پہاڑ کے مانند ہے، میری منزل بھی اس کے ساتھ تک پہنچے گی۔
4
बुझ गए हम चराग़ से बाहर
कहियो ऐ बाद-ए-शम्अ' महफ़िल तक
ہم چراغ سے باہر بجھ گئے ہیں، اے بادلِ شمع، محفل تک کہہ دینا۔
5
न गया 'मीर' अपनी कश्ती से
एक भी तख़्ता पारा साहिल तक
میر اپنی کشتی سے ایک بھی تختہ ساحل تک نہیں لے گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
