غزل

दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक

दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل زندگی کے ہر اہم موڑ تک ساتھ نبھانے اور امید قائم رکھنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے منزل کتنی بھی دور کیوں نہ ہو، اس تک پہنچنے کی لگن نہیں چھوڑنی چاہیے۔ یہ ہمیں ہر مشکل میں حوصلہ اور ہمت برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दस्त-ओ-पा मारे वक़्त-ए-बिस्मिल तक हाथ पहुँचा न पा-ए-क़ातिल तक
دست و پا مارے وقت بسمل تک ہاتھ پہنچا نہ پائے قاتل تک
دست و پا مارے وقتِ بسمیل تک، ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک۔ یعنی، ہاتھ کسی مبارک نشانی کے وقت تک نہیں پہنچا، نہ وہ قاتل کے قدم تک پہنچا۔
2
का'बा पहुँचा तो क्या हुआ ऐ शैख़ सई कर टुक पहुँच किसी दिल तक
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
اے شاعر، کا‘با پہنچنا کیا بات ہے؟ سب سے ضروری تو دل تک پہنچنا ہے۔
3
दरपय महमिल उस के जैसे जरस मैं भी नालाँ हूँ साथ मंज़िल तक
درپئے محمل اس کے جیسے جرس میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
اس کا مطلب ہے کہ جس طرح محفل کی رونق اس (شخص) کے جیسے پہاڑ کے مانند ہے، میری منزل بھی اس کے ساتھ تک پہنچے گی۔
4
बुझ गए हम चराग़ से बाहर कहियो ऐ बाद-ए-शम्अ' महफ़िल तक
بجھ گئے ہم چراغ سے باہر کہیو اے باد شمع محفل تک
ہم چراغ سے باہر بجھ گئے ہیں، اے بادلِ شمع، محفل تک کہہ دینا۔
5
न गया 'मीर' अपनी कश्ती से एक भी तख़्ता पारा साहिल तक
نہ گیا میرؔ اپنی کشتی سے ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
میر اپنی کشتی سے ایک بھی تختہ ساحل تک نہیں لے گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.