غزل
नई तर्ज़ों से मयख़ाने में रंग-ए-मय झलकता था
नई तर्ज़ों से मयख़ाने में रंग-ए-मय झलकता था
یہ غزل بتاتی ہے کہ کس طرح نئی طرزوں سے مے خانے میں رنگِ مے جھلکتا تھا۔ اس میں محبت اور جدائی کے جذبات بھی ہیں، جہاں محبوب کی یاد سے دل کا درد اور حسرت محسوس ہوتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
नई तर्ज़ों से मयख़ाने में रंग-ए-मय झलकता था
गुलाबी रोती थी वाँ जाम हँस हँस कर छलकता था
نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا
گلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا
نئی طرزوں سے مے خانے میں رنگِ مے جھلکتھا تھا، اور وہ گلابی روتا ہوا جام ہنستے ہنستے جھلکتا تھا۔
2
तिरे उस ख़ाक उड़ाने की धमक से ऐ मरी वहशत
कलेजा रेग-ए-सहरा का भी दस दस गज़ थिलक्ता था
ترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشت
کلیجا ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا تھا
اے میری وحشت، تیرے اس خاک اڑانے کی دھمکی سے، کَلَجَہ رَگِ سَہرا کا بھی دس دس گَز تھِلکتھا تھا۔
3
गई तस्बीह उस की नज़्अ' में कब 'मीर' के दिल से
उसी के नाम की सुमरन थी जब मुनक्का ढलकता था
گئی تسبیح اس کی نزع میں کب میرؔ کے دل سے
اسی کے نام کی سمرن تھی جب منکا ڈھلکتا تھا
उसकी तस्بیح कब नज़्में 'میر' کے دل سے گئی، جب مُنّکا ڈھل رہا تھا، تب تو بس اُسی کے نام کا ذکر تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
