غزل

राह-ए-दूर-ए-इश्क़ में रोता है क्या

राह-ए-दूर-ए-इश्क़ में रोता है क्या
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل عشق کے راستے پر رونے کی ضرورت پر سوال اٹھاتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ آگے بڑھنے سے کچھ نیا ہوتا ہے۔ اس میں زمین کی بے رنگی اور خواہشات کی پائیداری پر غور کیا گیا ہے، اور یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا عشق کے نشان کبھی دھلے سکتے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
राह-ए-दूर-ए-इश्क़ में रोता है क्या आगे आगे देखिए होता है क्या
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
دورِ عشق کے راستے میں روتا ہے کیا؟ آگے آگے دیکھو، ہوتا ہے کیا۔
2
क़ाफ़िले में सुब्ह के इक शोर है या'नी ग़ाफ़िल हम चले सोता है क्या
قافلے میں صبح کے اک شور ہے یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا
قافلے میں صبح کا ایک شور ہے، یا یعنی غافل ہم چلتے چلتے سو گیا ہے۔
3
सब्ज़ होती ही नहीं ये सरज़मीं तुख़्म-ए-ख़्वाहिश दिल में तू बोता है क्या
سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا
یہ زمیں کبھی سرسبز نہیں ہوتی، یا تم دل میں خواہش کے بیج بوتے ہو کیا؟
4
ये निशान-ए-इश्क़ हैं जाते नहीं दाग़ छाती के अबस धोता है क्या
یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
یہ نشانِ عشق ہیں جو جاتے نہیں، داغِ سینه اب کس سے دھویا جائے گا؟
5
ग़ैरत-ए-यूसुफ़ है ये वक़्त-ए-अज़ीज़ 'मीर' उस को राएगाँ खोता है क्या
غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا
یہ وقتِ عزیز ہے غیرتِ یوسف، 'میر'، اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.