غزل

याद-ए-अय्याम कि याँ तर्क-ए-शकेबाई था

याद-ए-अय्याम कि याँ तर्क-ए-शकेबाई था
میر تقی میر· Ghazal· 4 shers

یہ غزل گزرے ہوئے زمانوں کی یادوں پر ہے، جہاں شاعر کو لگتا ہے کہ ہر گلی اور کونہ یادوں سے بھرا ہے۔ اس میں جدائی کے دکھ اور تنہائی میں صبر کی گہرائی کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کے دلکش اثر اور زندگی کے تجربات کا ذکر کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
याद-ए-अय्याम कि याँ तर्क-ए-शकेबाई था हर गली शहर की याँ कूचा-ए-रुस्वाई था
یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا ہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا
یادِ ایام کہ یہاں منطقِ شکےبائی تھی، ہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا۔
2
इतनी गुज़री जो तिरे हिज्र में सो उस के सबब सब्र मरहूम अजब मोनिस-ए-तन्हाई था
اتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سبب صبر مرحوم عجب مونس تنہائی تھا
تیرا ہجر میں اتنا وقت گزر گیا کہ اس وجہ سے میرے صبر کا کیا کہنا، تنہائی میرا عجیب ساتھی بن گئی۔
3
तेरे जल्वे का मगर रू था सहर गुलशन में नर्गिस इक दीदा-ए-हैरान तमाशाई था
تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں نرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا
تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں، نرجس اک دیدہِ حیران تماشائی تھا۔ (معنی: باغ میں تمہاری خوبصورتی دلکش تھی، مگر صبح उदास تھی؛ ایک نرجس کا پھول حیرت سے دیکھ رہا تھا۔)
4
यही ज़ुल्फ़ों की तिरी बात थी या काकुल की 'मीर' को ख़ूब किया सैर तो सौदाई था
یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کی میرؔ کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا
یہ زُلفوں کی تیری بات تھی یا کاکل کی؟ جب میر نے سیر کی، تو وہ سودائی تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.