تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں — میر تقی میر

تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں نرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا

“In the garden, your beauty was captivating, yet the morning was aloof; a narcissus was a spectacle, strangely observant.”

— میر تقی میر

معنی

تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میں، نرجس اک دیدہِ حیران تماشائی تھا۔ (معنی: باغ میں تمہاری خوبصورتی دلکش تھی، مگر صبح उदास تھی؛ ایک نرجس کا پھول حیرت سے دیکھ رہا تھا۔)

تشریح

یہ شعر محبوب کے حسن میں چھپے غم کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہتے ہیں کہ آپ کا جادو تو صبح کے باغ میں تھا، مگر ایک اداسی بھی تھی... کہ نرجس بھی ایک حیران دیکھنے والا بن کر رہ گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.