غزل
होता है याँ जहाँ में हर रोज़-ओ-शब तमाशा
होता है याँ जहाँ में हर रोज़-ओ-शब तमाशा
یہ غزل زندگی کے ہر لمحے کو ایک مسلسل اور حیرت انگیز تماشے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں ہر روز اور ہر شام کوئی نہ کوئی تماشا ہوتا رہتا ہے، جو محبت، غم اور خوشی کا امتزاج ہے۔ یہ تماشا کبھی کبھی اتنا شور مچاتا ہے کہ اس کا سامنا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
होता है याँ जहाँ में हर रोज़-ओ-शब तमाशा
देखा जो ख़ूब तो है दुनिया अजब तमाशा
ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
دیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا
اس جہاں میں ہر روز و شب ایک تماشا ہوتا ہے۔ / دیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا۔
2
हर चंद शोर-ए-महशर अब भी है दर पे लेकिन
निकलेगा यार घर से होवेगा जब तमाशा
ہر چند شور محشر اب بھی ہے در پہ لیکن
نکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا
ہر جگہ اب بھی قیامت کا شور ہے، لیکن اصل تماشا تب شروع ہوگا جب دوست گھر سے باہر نکلے گا۔
3
भड़के है आतिश-ए-ग़म मंज़ूर है जो तुझ को
जलने का आशिक़ों के आ देख अब तमाशा
بھڑکے ہے آتش غم منظور ہے جو تجھ کو
جلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا
بھڑکے ہے آتِشِ غم، منظور ہے جو تجھ کو،
جلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا।
(اس کا مطلب ہے کہ غم کی آگ بھڑک اٹھی ہے، اور تمہیں یہ دیکھنا اچھا لگتا ہے کہ عاشق جلتے ہوئے ایک تماشو کی طرح دیکھتی ہو۔)
4
तालेअ' जो मीर ख़्वारी महबूब को ख़ुश आई
पर ग़म ये है मुख़ालिफ़ देखेंगे सब तमाशा
طالع جو میر خواری محبوب کو خوش آئی
پر غم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا
جو ترانہ میر خواری کے محبوب کو خوش آیا، پر غم یہ ہے کہ ہم سب تماشا دیکھیں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
