غزل

इधर से अब्र उठ कर जो गया है

इधर से अब्र उठ कर जो गया है
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو یہاں سے چلا گیا ہے، جس کے جانے سے شاعر کی زندگی میں ایک عجیب اور گہرا تبدیلی آ گئی ہے۔ اشعار میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس شخص کی غیر موجودگی نے نہ صرف شاعر کا مزاج بدلا ہے، بلکہ اس کا مقام یا وجود بھی بدل دیا ہے۔ یہ غزل جذباتی وابستگی اور جدائی کے درد کا گہرا اظہار ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
इधर से अब्र उठ कर जो गया है हमारी ख़ाक पर भी रो गया है
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
یہاں سے ابر جو گزر گیا، وہ ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے۔
2
मसाइब और थे पर दिल का जाना अजब इक सानेहा सा हो गया है
مصائب اور تھے پر دل کا جانا عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
مصیبتیں تو تھیں، پر دل کا جانا عجب اک سنہا سا ہو گیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب یہ ہے کہ اگرچہ مشکلات موجود تھیں، لیکن دل کا مزاج ایک عجیب اور نازک خوشبو جیسا ہو گیا ہے۔
3
मुक़ामिर-ख़ाना-ए-आफ़ाक़ वो है कि जो आया है याँ कुछ खो गया है
مقامر خانۂ آفاق وہ ہے کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
مقامر خانہ افاق وہ ہے کہ جو آیا ہے یہاں کچھ کھو گیا ہے۔
4
कुछ आओ ज़ुल्फ़ के कूचे में दरपेश मिज़ाज अपना उधर अब तो गया है
کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش، میرا مزاج اب تو کہیں اور چلا گیا ہے۔
5
सिरहाने 'मीर' के कोई न बोलो अभी टुक रोते रोते सो गया है
سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
سرہانے 'میر' کے کوئی نہ بولو، ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.