غزل
इधर से अब्र उठ कर जो गया है
इधर से अब्र उठ कर जो गया है
یہ غزل ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو یہاں سے چلا گیا ہے، جس کے جانے سے شاعر کی زندگی میں ایک عجیب اور گہرا تبدیلی آ گئی ہے۔ اشعار میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اس شخص کی غیر موجودگی نے نہ صرف شاعر کا مزاج بدلا ہے، بلکہ اس کا مقام یا وجود بھی بدل دیا ہے۔ یہ غزل جذباتی وابستگی اور جدائی کے درد کا گہرا اظہار ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इधर से अब्र उठ कर जो गया है
हमारी ख़ाक पर भी रो गया है
یہاں سے ابر جو گزر گیا، وہ ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے۔
2
मसाइब और थे पर दिल का जाना
अजब इक सानेहा सा हो गया है
مصیبتیں تو تھیں، پر دل کا جانا عجب اک سنہا سا ہو گیا ہے۔ اس کا لفظی مطلب یہ ہے کہ اگرچہ مشکلات موجود تھیں، لیکن دل کا مزاج ایک عجیب اور نازک خوشبو جیسا ہو گیا ہے۔
3
मुक़ामिर-ख़ाना-ए-आफ़ाक़ वो है
कि जो आया है याँ कुछ खो गया है
مقامر خانہ افاق وہ ہے کہ جو آیا ہے یہاں کچھ کھو گیا ہے۔
4
कुछ आओ ज़ुल्फ़ के कूचे में दरपेश
मिज़ाज अपना उधर अब तो गया है
کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش، میرا مزاج اب تو کہیں اور چلا گیا ہے۔
5
सिरहाने 'मीर' के कोई न बोलो
अभी टुक रोते रोते सो गया है
سرہانے 'میر' کے کوئی نہ بولو، ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
