دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بن — میر تقی میر
“In the wilderness and mountains, by striking the spear, we reminded Qais and Farhad of you.”
معنی
دشت و کوہسار میں سر مار کے چندے تجھ बिन، قیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے جنگل اور پہاڑوں میں نیزے سے ضرب لگا کر (یا اس طرح کا اشارہ کر کے) قیس اور فرہاد کو تمہارا یاد دلایا۔
تشریح
یہ شعر محبت کی گہری یادوں اور جدائی کے درد کو ظاہر کرتا ہے۔ शायر نے دشت و کوہسار کا ذکر کیا ہے، جو زندگی کی مشکل ترین حالات اور یادوں کے دشوار سفر کی علامت ہے۔ 'سر مار کے چंदे' سے مراد ہے کہ یادوں کو زبردستی یا بہت محنت سے جگانا پڑا۔ میر تقی میر کا خیال ہے کہ محبت کی یادیں اتنی طاقتور ہیں کہ وہ قیس اور فرہاد جیسی عظیم محبت کی کہانیاں بھی دورِ زمانہ میں زندہ کر سکتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
