اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے — میر تقی میر
اے حب جاہ والو جو آج تاجور ہے
کل اس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے
“O you lovers of vanity, who are triumphant today, Tomorrow, when you see, you will find neither crown nor head.”
— میر تقی میر
معنی
اے حُبّ-ے-جاہ والو جو آج تاجور ہے کل اُس کو دیکھیو تم نے تاج ہے نہ سر ہے اس کا لفظی مطلب ہے کہ اے دکھاوے کے محبت کرنے والو جو آج فتح یاب ہیں، کل جب تم اُن کو دیکھو گے تو نہ تاج ہوگا اور نہ سر۔
تشریح
یہ شعر دنیا کی عارضی شان و شوکت پر ایک گہرا فلسفیانہ سبق ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ آج اپنے غرور اور جاہ و جلال میں مست ہیں، انہیں کل اپنی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جب وہ تاج سر پر نہیں ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
