غزل
क्या कहूँ कैसा सितम ग़फ़लत से मुझ पर हो गया
क्या कहूँ कैसा सितम ग़फ़लत से मुझ पर हो गया
یہ غزل جدائی اور تقدیر سے ملے دکھوں کا بیان ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ یہ کیسا ظلم تھا جو غفلت سے مجھ پر ہو گیا۔ یہ کہتا ہے کہ عشق کا راستہ ایک خواب میں گم ہو گیا، جو زندگی کی بے یقینی اور محبت کی تلاش میں دل کے بھٹکنے کو ظاہر کرتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या कहूँ कैसा सितम ग़फ़लत से मुझ पर हो गया
क़ाफ़िला जाता रहा मैं सुब्ह होते सो गया
میں کیا کہوں کہ غفلت سے مجھ پر کیسا ستم ہو گیا۔ قافلہ جاتا رہا اور میں صبح ہوتے ہی سو گیا۔
2
बे-कसी मुद्दत तलक बरसा की अपनी गोर पर
जो हमारी ख़ाक पर से हो के गुज़रा रो गया
کسی مدت تک، اپنی قبر پر بارش کر دے، اگر جو ہماری خاک سے گزرتا ہوا رو گیا۔
3
कुछ ख़तरनाकी तरीक़-ए-इश्क़ में पिन्हाँ नहीं
खप गया वो राह-रौ इस राह हो कर जो गया
محبت کے راستے پر کوئی خطرہ چھپا نہیں ہوتا، اور وہ اپنی ساری زندگی اسی راستے پر گزار کر رہ گیا۔
4
मुद्दआ' जो है सो वो पाया नहीं जाता कहीं
एक आलम जुस्तुजू में जी को अपने खो गया
مُدعا جو ہے وہ پایا نہیں جاتا کہیں، ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا۔
5
'मीर' हर-यक मौज में है ज़ुल्फ़ ही का सा दिमाग़
जब से वो दरिया पे आ कर बाल अपने धो गया
شایر کہتا ہے کہ جب اس نے دریا پر اپنے بال دھوئے، تب سے اس کا دماغ ہر لہر میں زُلف کے بالوں جیسا ہو گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
