میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ — میر تقی میر
میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا
“In every wave, the mind is like tresses of hair, Since she washed her locks upon the river's flair.”
— میر تقی میر
معنی
شایر کہتا ہے کہ جب اس نے دریا پر اپنے بال دھوئے، تب سے اس کا دماغ ہر لہر میں زُلف کے بالوں جیسا ہو گیا ہے۔
تشریح
یہ شعر یادوں کے گہرے اثر کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کی یاد ہر لہر میں موجود ہے.... وہ یاد جو ایک ندی میں بال دھونے کے ایک لمحے سے جڑ گئی ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو ہر لمحے کو معطر کر دیتا ہے!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev5 / 5
