Sukhan AI
غزل

जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं

जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک ایسی جگہ کا بیان کرتی ہے جو پہلے خَر-زاریں تھی، مگر اب بہاریں ہو گئی ہیں۔ یہ عشق کے شہر کی کیفیت کو پیش کرتی ہے، جہاں ہر طرف مزارات ہیں۔ یہ ایک عجیب شوق ہے اس خوبی کے دریا میں، کہ موجیں سب کناروں پر آ گئی ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं यहीं आगे बहारें हो गई हैं
جہاں پہلے کانٹے دار اور ویران جگہیں تھیں، وہاں اب پھول اور ہریالی کھل گئی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.