غزل
जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं
जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं
یہ غزل ایک ایسی جگہ کا بیان کرتی ہے جو پہلے خَر-زاریں تھی، مگر اب بہاریں ہو گئی ہیں۔ یہ عشق کے شہر کی کیفیت کو پیش کرتی ہے، جہاں ہر طرف مزارات ہیں۔ یہ ایک عجیب شوق ہے اس خوبی کے دریا میں، کہ موجیں سب کناروں پر آ گئی ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जहाँ अब ख़ार-ज़ारें हो गई हैं
यहीं आगे बहारें हो गई हैं
جہاں پہلے کانٹے دار اور ویران جگہیں تھیں، وہاں اب پھول اور ہریالی کھل گئی ہے۔
2
जुनूँ में ख़ुश्क हो रग-हा-ए-गर्दन
गरेबाँ की सी तारें हो गई हैं
جُنون میں خشک ہو رگہاۓ گردن، گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں۔
3
सुना जाता है शहर-ए-इश्क़ के गिर्द
मज़ारें ही मज़ारें हो गई हैं
کہا جاتا ہے کہ شہرِ عشق کے گرد صرف مزارے ہی مزارے ہو گئے ہیں۔
4
इसी दरिया-ए-ख़ूबी का है ये शौक़
कि मौजें सब कनारें हो गई हैं
اسی دریاِ خوبی کا ہے یہ شوق کہ موجیں سب کنارے ہو گئی ہیں۔
5
इन्हीं गलियों में जब रोते थे हम 'मीर'
कई दरिया की धारें हो गई हैं
انھی گلیوں میں جب ہم روتے تھے، تو کئی دریا کی دھارے ہو گئی ہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
