غزل

इश्क़ में कुछ नहीं दवा से नफ़अ'

इश्क़ में कुछ नहीं दवा से नफ़अ'
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل عشق کی طاقت کی تعریف کرتی ہے، یہ کہتا ہے کہ اس کا اثر کسی دوا یا بیرونی ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب کسی بیرونی ذریعہ سے امید رکھنا چھوڑ دینا چاہیے، اور صرف خدا یا اپنے اندرونی یقین پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہ حقیقی محبت کی پاکیزگی اور اس کی ماورائی طاقت کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
इश्क़ में कुछ नहीं दवा से नफ़अ' कुढि़ए कब तक न हो बला से नफ़अ'
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
عشق میں کوئی دوا کام نہیں آتی؛ کب تک اس مصیبت سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔
2
कब तलक इन बुतों से चश्म रहे हो रहेगा बस अब ख़ुदा से नफ़अ'
کب تلک ان بتوں سے چشم رہے ہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
شاعر کہہ رہا ہے کہ تم کب تک ان بتوں سے پناہ مانگتی رہو گی؟ اب تو صرف خدا سے ہی نفع ملے گا۔
3
मैं तो ग़ैर अज़ ज़रर न देखा कुछ ढूँढो तुम यार ओ आश्ना से नफ़अ'
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھ ڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع
شاعر کہتا ہے کہ اس نے اجنبی کے زور کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ وہ مشورہ دیتا ہے کہ محبوب یا دوست سے کوئی فائدہ نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔
4
मुग़्तनिम जान गर किसू के तईं पहुँचे है तेरे दस्त ओ पा से नफ़अ'
مغتنم جان گر کسو کے تئیں پہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع
اے میرے پیارے، اگر تم کسی منزل کو پا چکے ہو، تو تمہارے ہاتھوں اور پاؤں سے کوئی فائدہ نہیں۔
5
अब फ़क़ीरों से कह हक़ीक़त-ए-दिल 'मीर' शायद कि हो दुआ से नफ़अ'
اب فقیروں سے کہہ حقیقت دل میرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع
اب فقیروں سے کہہ حقیقتِ دل، 'میر'، شاید دعا سے نفع نہ ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.