کب تلک ان بتوں سے چشم رہے — میر تقی میر

کب تلک ان بتوں سے چشم رہے ہو رہے گا بس اب خدا سے نفع

“Until when will you take refuge from these idols? / You will only find benefit from God now.”

— میر تقی میر

معنی

شاعر کہہ رہا ہے کہ تم کب تک ان بتوں سے پناہ مانگتی رہو گی؟ اب تو صرف خدا سے ہی نفع ملے گا۔

تشریح

یہ شعر دراصل روحانی بیداری کا پیغام ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ یہ جھوٹے سہارے، یہ بتوں پر یقین کب تک رہے گا؟ اصل نفع تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ہی حاصل ہو گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.