“That crooked walker never met me upon the path, nor ever took my greeting in a straightforward way.”
وہ ٹیڑھی چال چلنے والا کبھی راستے میں مجھ سے نہیں ملا اور نہ ہی اس نے کبھی سیدھے طریقے سے میرا سلام قبول کیا۔
میرؔ نے اس شعر میں کج روی اور سیدھے پن کے تضاد کو کمال خوبصورتی سے برتا ہے۔ محبوب کو ’کج روش‘ یعنی ٹیڑھی چال چلنے والا کہا گیا ہے، جو مزاج کے اعتبار سے بے پروا، ضدی اور بدگمان ہے۔ وہ نہ تو کبھی سیدھی راہ پر چل کر سامنے آیا اور نہ ہی اس نے کبھی اپنائیت سے سلام کا جواب دیا۔ یہ دراصل عاشق کا ایک شوخ اور پُردرد شکوہ ہے کہ جس سے دل لگایا، اس کی ہر ادا میں بس بے اعتنائی اور ٹیڑھ پن ہی رہا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
