“We shall show you the taste of your own cruelty, O hunter, should the restless agony of captivity seize us beneath the snare.”
اے شکاری، اگر جال کے نیچے قید کی تڑپ اور بے چینی نے مجھے گھیر لیا، تو ہم تجھے تیری بے رحمی کا مزا چکھا دیں گے۔
اس شعر میں اسیر پرندہ شکاری کو ایک پُرجوش للکار دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اگر دام میں قید ہونے کے بعد میری بے چینی اور تڑپ نے زور پکڑا، تو یہ اضطراب تیرا جال بکھیر دے گا اور تجھے تیری سنگدلی کا مزا چکھا دے گا۔ شاعر نے صیاد اور اسیر کے روایتی استعارے سے یہ گہری بات سمجھائی ہے کہ جب مظلوم کا درد اور تڑپ حد سے بڑھ جائے، تو وہی بے بسی ایک تند و تیز بغاوت بن کر ظالم کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
