“If swear you must, swear by the fortune of Zulaikha— / Sir, she claimed as her prize even the slave of Egypt's lord.”
اگر قسم ہی کھانی ہو تو زلیخا کی خوش قسمتی کی کھائیے، جس نے عزیزِ مصر کے غلام کو بھی اپنا بنا لیا۔
شاعر یہاں بڑے دلکش اور شوخ انداز میں زلیخا کے نصیب پر رشک کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر قسم ہی کھانی ہو تو زلیخا کے مقدر کی کھائیے، جس نے مصر کے حاکم کا ایک غلام حاصل کیا، مگر وہ غلام کوئی اور نہیں بلکہ حسنِ یوسف کا پیکر تھا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگتی ہے مگر اس میں عشق کی وہ بلندی چھپی ہے جہاں غلام بھی دلوں کی سلطنت کا اصل بادشاہ نکلتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
