ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

“Whenever someone uttered your name before me, I held fast to this bruised, tormented heart.”

— میر تقی میر
معنی

جب بھی میرے سامنے کسی نے تمہارا نام لیا، تو میں نے اپنے اس ستم رسیدہ دل کو بار بار سنبھالا۔

تشریح

میر تقی میر نے اس شعر میں دل کے اس نازک اور دکھتے ہوئے لمحے کو قید کیا ہے جب محفل میں کوئی لاشعوری طور پر بھی محبوب کا نام لے بیٹھتا ہے۔ عاشق کا دل تو پہلے ہی غمِ دوراں و ہجراں کا مارا یعنی 'ستم زدہ' ہے، لہٰذا وہ نام سنتے ہی اس طرح تڑپ اٹھتا ہے کہ اسے سنبھالنے کے لیے بار بار سینے پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے۔ یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ سچی محبت کا زخم جتنا بھی پرانا ہو، محبوب کا نام پڑتے ہی وہ پہلے دن کی طرح تروتازہ ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.