غزل
दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू न गया
दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू न गया
یہ غزل محبوب کے چہرے کے شوق (شوقِ رخِ نقو) کا دل سے نہ جانے کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حالانکہ سب کچھ کھو دیا، لیکن اس کشش کا اثر دل سے نہیں گیا۔ یہ محبت کے ایک گہرے اور دائمی تاثر کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू न गया
झाँकना-ताकना कभू न गया
دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
دل سے شوقِ رخِ نیکو نہ گیا، جھانکنا تاکنا کب نہ گیا۔
2
हर क़दम पर थी उस की मंज़िल लेक
सर से सौदा-ए-जुस्तजू न गया
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سودائے جستجو نہ گیا
ہر قدم پر اس کی منزل کا راستہ تھا، مگر سر سے سوداِ جستجو کہیں گیا۔
3
सब गए होश-ओ-सब्र-ओ-ताब-ओ-तवाँ
लेकिन ऐ दाग़ दिल से तू न गया
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
میرے سارے ہوش، صبر، طاقت اور جوش چلے گئے، لیکن اے داغ دل، تو نہیں گیا۔
4
दिल में कितने मुसव्वदे थे वले
एक पेश उस के रू-ब-रू न गया
دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے رو بہ رو نہ گیا
اے محبوب، دل میں کتنے منصوبے تھے، بس ایک نظر سے وہ سب ختم ہو گئے۔
5
सुब्हा-गर्दां ही 'मीर' हम तो रहे
दस्त-ए-कोताह ता-सुबू न गया
سبحہ گرداں ہی میرؔ ہم تو رہے
دست کوتاہ تا سبو نہ گیا
شاعر (میر) कह रहे हैं कि وہ اب بھی یہاں ہیں، حالانکہ آپ کا ہاتھ چھوٹا تھا؛ وہ آپ کی موجودگی سے رخصت نہیں ہوئے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
