Sukhan AI
غزل

दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू न गया

दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू न गया
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل محبوب کے چہرے کے شوق (شوقِ رخِ نقو) کا دل سے نہ جانے کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حالانکہ سب کچھ کھو دیا، لیکن اس کشش کا اثر دل سے نہیں گیا۔ یہ محبت کے ایک گہرے اور دائمی تاثر کو ظاہر کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल से शौक़-ए-रुख़-ए-निकू गया झाँकना-ताकना कभू गया
دل سے شوقِ رخِ نیکو نہ گیا، جھانکنا تاکنا کب نہ گیا۔
2
हर क़दम पर थी उस की मंज़िल लेक सर से सौदा-ए-जुस्तजू गया
ہر قدم پر اس کی منزل کا راستہ تھا، مگر سر سے سوداِ جستجو کہیں گیا۔
3
सब गए होश-ओ-सब्र-ओ-ताब-ओ-तवाँ लेकिन दाग़ दिल से तू गया
میرے سارے ہوش، صبر، طاقت اور جوش چلے گئے، لیکن اے داغ دل، تو نہیں گیا۔
4
दिल में कितने मुसव्वदे थे वले एक पेश उस के रू-ब-रू गया
اے محبوب، دل میں کتنے منصوبے تھے، بس ایک نظر سے وہ سب ختم ہو گئے۔
5
सुब्हा-गर्दां ही 'मीर' हम तो रहे दस्त-ए-कोताह ता-सुबू गया
شاعر (میر) कह रहे हैं कि وہ اب بھی یہاں ہیں، حالانکہ آپ کا ہاتھ چھوٹا تھا؛ وہ آپ کی موجودگی سے رخصت نہیں ہوئے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.