सुब्हा-गर्दां ही 'मीर' हम तो रहे
दस्त-ए-कोताह ता-सुबू न गया
“O Mir, I remained here, though your hand was short; I did not pass away from your presence.”
— میر تقی میر
معنی
شاعر (میر) कह रहे हैं कि وہ اب بھی یہاں ہیں، حالانکہ آپ کا ہاتھ چھوٹا تھا؛ وہ آپ کی موجودگی سے رخصت نہیں ہوئے۔
تشریح
یہ شعر وجودی خوف اور زندگی کے بڑے فیصلے سے متعلق ہے۔ 'سبھا گرداں' یعنی شدید مصائب اور اذیتیں۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ اصل خوف مصیبت میں نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے—یعنی آخری حد تک پہنچ جانا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev5 / 5
