غزل
बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा
बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा
یہ غزل ایک پیار اور گہرے انداز میں جدائی اور یادوں کی اہمیت کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر سننے والے سے التجا کرتا ہے کہ وہ اس کی باتیں یاد رکھے لیکن ایسی باتیں نہ سنے۔ یہ زندگی کے تجربات اور محبت کی قدر پر ایک تأمل ہے، جہاں سچا ساتھ اور یادیں ہی سب سے بڑی دولت ہیں۔
نغمہ سنیں
1
बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा
पढ़ते किसू को सुनिएगा तो देर तलक सर धुनिएगा
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
ہماری باتیں یاد رہیں، مگر ایسی باتیں دوبارہ نہ سنئیے گا۔ اگر آپ کچھ سنیں گے، تو دیر تک کھو جائیں گے۔
2
सई ओ तलाश बहुत सी रहेगी इस अंदाज़ के कहने की
सोहबत में उलमा फ़ुज़ला की जा कर पढ़िए गिनयेगा
سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی
صحبت میں علما فضلا کی جا کر پڑھیے گنیے گا
اے محبوب، اس انداز کے کہنے کی بہت سی تلاش رہے گی؛ علمائے فضلہ کی صحبت میں جا کر پڑھو گے اور گنیتے۔
3
दिल की तसल्ली जब कि होगी गुफ़्त ओ शुनूद से लोगों की
आग फुंकेगी ग़म की बदन में उस में जलिए भुनिएगा
دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کی
آگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا
جب دل کو لوگوں کی باتوں اور قصوں سے سکون ملے گا، تو وہ جسم میں غم کی آگ پھونکے گی، اور آپ اس میں جلیں گے۔
4
गर्म अशआर 'मीर' दरूना दाग़ों से ये भर देंगे
ज़र्द-रू शहर में फिरिएगा गलियों में ने गुल चुनिएगा
گرم اشعار میرؔ درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گے
زرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا
اے میر، تمہارے اشعار، جو جلی ہوئی شراب جیسے ہیں، ان داغوں والے دنوں کو بھر دیں گے؛ تم پیلے شہر میں گلیوں میں گھوم کر پھول چنیں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
