Sukhan AI
غزل

बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा

बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा
میر تقی میر· Ghazal· 4 shers

یہ غزل ایک پیار اور گہرے انداز میں جدائی اور یادوں کی اہمیت کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر سننے والے سے التجا کرتا ہے کہ وہ اس کی باتیں یاد رکھے لیکن ایسی باتیں نہ سنے۔ یہ زندگی کے تجربات اور محبت کی قدر پر ایک تأمل ہے، جہاں سچا ساتھ اور یادیں ہی سب سے بڑی دولت ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा पढ़ते किसू को सुनिएगा तो देर तलक सर धुनिएगा
ہماری باتیں یاد رہیں، مگر ایسی باتیں دوبارہ نہ سنئیے گا۔ اگر آپ کچھ سنیں گے، تو دیر تک کھو جائیں گے۔
2
सई ओ तलाश बहुत सी रहेगी इस अंदाज़ के कहने की सोहबत में उलमा फ़ुज़ला की जा कर पढ़िए गिनयेगा
اے محبوب، اس انداز کے کہنے کی بہت سی تلاش رہے گی؛ علمائے فضلہ کی صحبت میں جا کر پڑھو گے اور گنیتے۔
3
दिल की तसल्ली जब कि होगी गुफ़्त ओ शुनूद से लोगों की आग फुंकेगी ग़म की बदन में उस में जलिए भुनिएगा
جب دل کو لوگوں کی باتوں اور قصوں سے سکون ملے گا، تو وہ جسم میں غم کی آگ پھونکے گی، اور آپ اس میں جلیں گے۔
4
गर्म अशआर 'मीर' दरूना दाग़ों से ये भर देंगे ज़र्द-रू शहर में फिरिएगा गलियों में ने गुल चुनिएगा
اے میر، تمہارے اشعار، جو جلی ہوئی شراب جیسے ہیں، ان داغوں والے دنوں کو بھر دیں گے؛ تم پیلے شہر میں گلیوں میں گھوم کر پھول چنیں گے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

बातें हमारी याद रहें फिर बातें ऐसी न सुनिएगा | Sukhan AI