غزل

बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो

बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل زندگی کے ہر حال میں جینے کا سبق دیتی ہے، چاہے وہ غم ہو یا خوشی۔ یہ کہتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ ایسے کام کرنے چاہییں جو لوگوں کی یاد میں رہیں، اور زندگی کے مختلف جذبات (جیسے محبت یا آزادی) کو پوری طرح جینا چاہیے۔ یہ نظم ہمیں ہر حال میں اپنی پہچان اور جذبات کو برقرار رکھنے کا پیغام دیتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो ऐसा कुछ कर के चलो याँ कि बहुत याद रहो
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
2
इश्क़-पेचे की तरह हुस्न-ए-गिरफ़्तारी है लुत्फ़ क्या सर्व की मानिंद गर आज़ाद रहो
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے لطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
تمہارا حسن قید کی زنجیروں جیسا ہے، اور کیا لطف ہے اگر آج آزاد رہو۔
3
हम को दीवानगी शहरों ही में ख़ुश आती है दश्त में क़ैस रहो कोह में फ़रहाद रहो
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے دشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں میں ہی خوش آتی ہے؛ دشت میں قیس رہے، کوہ میں فرہاد رہے۔
4
वो गराँ ख़्वाब जो है नाज़ का अपने सो है दाद बे-दाद रहो शब को कि फ़रियाद रहो
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے داد بیداد رہو شب کو کہ فریاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے / داد بے-داد رہو شب کو کہ فیاض رہو
5
'मीर' हम मिल के बहुत ख़ुश हुए तुम से प्यारे इस ख़राबे में मिरी जान तुम आबाद रहो
میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
میر کہتے ہیں کہ ہم تم سے مل کر بہت خوش ہوئے، پیارے۔ اس خَرابے میں میری جان تم آباد رہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.