غزل
बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो
बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो
یہ غزل زندگی کے ہر حال میں جینے کا سبق دیتی ہے، چاہے وہ غم ہو یا خوشی۔ یہ کہتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ ایسے کام کرنے چاہییں جو لوگوں کی یاد میں رہیں، اور زندگی کے مختلف جذبات (جیسے محبت یا آزادی) کو پوری طرح جینا چاہیے۔ یہ نظم ہمیں ہر حال میں اپنی پہچان اور جذبات کو برقرار رکھنے کا پیغام دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
बारे दुनिया में रहो ग़म-ज़दा या शाद रहो
ऐसा कुछ कर के चलो याँ कि बहुत याद रहो
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
2
इश्क़-पेचे की तरह हुस्न-ए-गिरफ़्तारी है
लुत्फ़ क्या सर्व की मानिंद गर आज़ाद रहो
تمہارا حسن قید کی زنجیروں جیسا ہے، اور کیا لطف ہے اگر آج آزاد رہو۔
3
हम को दीवानगी शहरों ही में ख़ुश आती है
दश्त में क़ैस रहो कोह में फ़रहाद रहो
ہم کو دیوانگی شہروں میں ہی خوش آتی ہے؛ دشت میں قیس رہے، کوہ میں فرہاد رہے۔
4
वो गराँ ख़्वाब जो है नाज़ का अपने सो है
दाद बे-दाद रहो शब को कि फ़रियाद रहो
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے / داد بے-داد رہو شب کو کہ فیاض رہو
5
'मीर' हम मिल के बहुत ख़ुश हुए तुम से प्यारे
इस ख़राबे में मिरी जान तुम आबाद रहो
میر کہتے ہیں کہ ہم تم سے مل کر بہت خوش ہوئے، پیارے۔ اس خَرابے میں میری جان تم آباد رہو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
