“Even for Alexander, the door remains barred; and were one Darius himself, there is no kind regard.”
سکندر کے لیے بھی دروازہ بند ہے، اور اگر کوئی دارا جیسا بادشاہ بھی ہو تو اس کی کوئی خاطر داری یا مدارات نہیں کی جاتی۔
یہ شعر محبوب کی بے نیازی اور درِ عشق کے وقار کو دل نشین انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس چوکھٹ پر دنیا کو فتح کرنے والے سکندر کے لیے بھی در بند رہتے ہیں اور دارا جیسا عظیم الشان بادشاہ بھی التفات اور مدارات سے محروم رہ جاتا ہے۔ دراصل محبت اور حقیقت کی دنیا میں دنیاوی جاہ و جلال، طاقت اور فتوحات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
