“No one quite like you, O Anees, has ever adorned the bride of verse.”
اے انیس! شاعری کی دلہن کو کسی نے بھی آپ کی طرح خوبصورت اور آراستہ نہیں کیا۔
اس شعر میں شاعری کو ایک دلہن یعنی 'عروسِ سخن' کے خوبصورت استعارے میں ڈھالا گیا ہے، جسے میر انیسؔ نے اپنے لاجواب طرزِ بیان سے سجایا ہے۔ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ انیسؔ نے فصاحت و بلاغت کے جو نازک زیور شاعری کو پہنائے ہیں، اس کی مثال پوری تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ یہ شعر میر انیسؔ کے کمالِ فن، قادر الکلامی اور زبان دانی کو انتہائی محبت اور احترام سے پیش کیا گیا ایک پُرکشش خراجِ تحسین ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
