“What fear of Hell have we, the restless souls, in its domain? That which can rest upon the fire is mercury only in name.”
ہم بے قرار لوگوں کا جہنم کی آگ سے کیا واسطہ، کیونکہ جو آگ پر ٹھہر جائے وہ پارہ نہیں ہو سکتا۔
شاعر نے یہاں پارے کی بے چین اور سیمابی فطرت کا لاجواب استعارہ باندھا ہے، جو آگ پر رکھتے ہی تڑپ کر اڑ جاتا ہے مگر کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جیسے تڑپتے ہوئے عاشقوں کو جہنم کے شعلوں کا کیا ڈر، کیونکہ ہمارا باطن تو پہلے ہی عشق کی آگ میں سلگ رہا ہے۔ جو آگ کی تپش پا کر خاموشی سے پڑا رہ جائے وہ بھلا سچا پارا کیسے ہو سکتا ہے، یعنی ہماری بے قراری کے سامنے دوزخ کی آگ بھی بے بس ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
