“Had I known from the start, I could not have lived,That my entire life would pass on mere trust.”
شاعر کہتا ہے کہ اگر اسے ابتدا سے یہ معلوم ہوتا کہ اس کی پوری زندگی محض بھروسے پر ہی گزر جائے گی، تو وہ شاید زندہ ہی نہ رہ پاتا۔
یہ شعر زندگی کی ایک گہری حقیقت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر ہمیں شروع سے ہی معلوم ہوتا کہ ہماری پوری زندگی محض بھروسے پر گزر جائے گی، تو شاید ہم جینے کی ہمت ہی نہ کر پاتے۔ یہ بھروسا لوگوں پر ہو سکتا ہے، قسمت پر یا مستقبل پر۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے ایک معصومیت اور ایک ان کہی امید کتنی ضروری ہے، جو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے، چاہے اس کے ٹوٹنے کا خوف ہمیشہ موجود رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
