“If there exists a God, He will be Love's devotee; If He departs from Love, He will be defeated by Love.”
کہیں اگر کوئی خدا ہوگا تو وہ عشق کا بندہ ہوگا۔ اگر وہ عشق سے جدا ہوگا تو عشق سے ہی ہار جائے گا۔
یہ شعر عشق کو سب سے اونچا مقام دیتا ہے، جیسے محبت ہی کائنات کی حکمران ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر خدا کا وجود بھی ہے تو اسے بھی عشق کا بندہ ہونا پڑے گا، کیونکہ محبت ہی اصل قوت ہے۔ اگر خدا بھی عشق سے منہ موڑ لے تو وہ خود عشق کے ہاتھوں شکست کھا جائے گا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عشق ہی حتمی سچائی اور سب سے بڑی طاقت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
