“Joy brought calamity in its train, igniting pyres with its own hand,Upon the grief of others, where punishment is gladly received.”
خوشی خود اپنے ساتھ آفت لائی، اپنے ہاتھوں سے تباہی کی آگ جلائی۔ یہ اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں شخص دوسروں کے غم سے متعلق ہونے پر خوشی خوشی سزا قبول کرتا ہے۔
یہ شعر خوشی کے ایک گہرے اور متضاد پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں خوشی کو ہی آفت لانے والی اور اپنے ہی ہاتھوں سے دکھ کی ہولیاں جلانے والی بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہماری خوشی دوسروں کے دکھ پر منحصر ہوتی ہے، تو وہ درحقیقت ایک آفت کو جنم دیتی ہے۔ بالآخر، شاعر کہتے ہیں کہ ایسی خوشی کے بعد ملنے والی سزا کو انسان خوشی خوشی قبول کر لیتا ہے، شاید یہ جانتے ہوئے کہ یہ انصاف پر مبنی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
