“Seeing my star, these foes have grown so keen;Yet I remain carefree, knowing your grace has been.”
میرے ستارے کو دیکھ کر دشمن تیز ہو گئے ہیں۔ میں غافل ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ یہ آپ کی جانی ہوئی رحمت ہے۔
یہ خوبصورت شعر ہمیں بتاتا ہے کہ جب کسی کا ستارہ عروج پر ہوتا ہے، یعنی وہ کامیابی حاصل کرتا ہے، تو اس کے دشمن اور بھی زیادہ سرگرم اور تیز ہو جاتے ہیں۔ لیکن قابلِ دید بات یہ ہے کہ شاعر اس تمام صورتحال سے بے پرواہ اور غافل رہتا ہے۔ اس کی یہ بے فکری کسی کی 'رحمت' یا مہربانی پر اس کے گہرے یقین کی بدولت ہے۔ یہ دراصل یہی ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان کو اللہ یا کسی بڑی ہستی کی عنایت پر بھروسہ ہو، تو وہ دشمنوں کی پرواہ کیے بغیر پرسکون رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
