یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے — جگر مرادآبادی

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

“How strange is the venerable Sheikh’s decree, unmatched in all the land: drink it there, and it is lawful; drink it here, and it is banned.”

— جگر مرادآبادی

معنی

شیخ صاحب کا فلسفہ پوری دنیا سے نرالا ہے کہ اگر وہی چیز وہاں (جنت میں) پیو تو حلال ہے اور اگر یہاں (دنیا میں) پیو تو حرام ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے شیخ صاحب کے دوہرے معیار اور ظاہری تقوے پر بڑی لطیف اور تیکھی چوٹ کی ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ واعظ کا اصول بھی کمال کا ہے کہ جو شراب اس دنیا میں پینا گناہ ٹھہرائی گئی ہے، وہی آخرت میں پاکیزہ اور حلال نعمت بن جاتی ہے۔ طنز کے اس خوبصورت پیرائے میں شاعر نے رسمی پارسائی اور منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.