کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے — جگر مرادآبادی
“Some are drunk, some parched with thirst, while some hold a goblet in hand; yet what can anyone do about this, for such is the rule of the tavern's land.”
معنی
کوئی نشے میں مست ہے، کوئی پیاسا ہے اور کسی کے ہاتھ میں پیالہ ہے؛ مگر اس پر کوئی کیا کر سکتا ہے، یہ تو میخانے کا دستور ہی ہے۔
تشریح
شاعر نے دنیا کو ایک میکدے کے استعارے میں ڈھال کر زندگی کی غیر منصفانہ تقسیم کو کمال خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ کوئی نصیب کی خوشیوں سے سرشار ہے، کسی کے ہاتھ میں محض حسرت کا جام ہے، تو کوئی قطرہ بھر عنایت کو بھی ترستا رہ جاتا ہے۔ اس شعر میں تقدیر کے اسی دستور اور زمانے کے سامنے انسان کی بے بسی کا بڑا دل گداز احساس چھپا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
