اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر — جگر مرادآبادی
“In this very universe, O Jigar, a revolution will rise once more; for even after rising so high, man remains a slave to his desires.”
معنی
اے جگر، اسی کائنات میں پھر کوئی انقلاب آئے گا، کیونکہ اتنی بلندی حاصل کرنے کے بعد بھی انسان اب تک اپنی خواہشات کا غلام ہے۔
تشریح
جگرؔ مراد آبادی یہاں انسانی ارتقا اور اس کی باطنی کمزوری کا بڑا خوبصورت تضاد پیش کر رہے ہیں۔ انسان نے علم، عقل اور بلندیوں کے آسمان تو چھو لیے ہیں، مگر افسوس کہ وہ آج بھی اپنی نفسانی خواہشات اور لالچ کی قید میں جکڑا ہوا ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ اس دنیا میں ایک اور حقیقی انقلاب آنا ناگزیر ہے، جو انسان کو اس کی اندرونی غلامی سے نجات دلا کر حقیقی معنوں میں سرخرو کر سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
