ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے — جگر مرادآبادی
“We shall now resurface only after drowning; let those remain joyful who stay upon the shore.”
معنی
ہم تو اب مکمل طور پر ڈوبنے کے بعد ہی ابھریں گے، جبکہ جو لوگ کنارے پر محفوظ ہیں وہ خوش رہیں۔
تشریح
یہ شعر عشق اور زندگی میں مکمل طور پر خود کو سونپ دینے کے بلند حوصلے کا ترجمان ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ نئی زندگی پانے یا ابھرنے کے لیے پہلے بے رحم گہرائیوں میں غرق ہونا اور فنا کے مرحلے سے گزرنا ناگزیر ہے۔ کنارے پر رہ کر محتاط زندگی گزارنے والوں کے لیے دل میں کوئی شکوہ نہیں بلکہ خیر سگالی ہے، مگر اصل معراج تو اسی کو ملتی ہے جو طوفان کی تہہ تک جانے کی ہمت رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
