“Such is the state now, friends, why speak of foes? / We ourselves are turning into our own enemies.”
اے دوستو! اب ایسی حالت ہو چکی ہے کہ غیروں یا دشمنوں کا کیا ذکر کریں، ہم خود ہی اپنے دشمن بنے جا رہے ہیں۔
شاعر اپنے دوستوں سے دل کی یہ تلخ حقیقت بیان کر رہا ہے کہ اب غیروں یا دشمنوں کا شکوہ کرنا بالکل بے معنی ہو چکا ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں انسان کسی بیرونی وار سے نہیں، بلکہ اپنی ہی بے قراری، فیصلوں اور اندیشوں سے زخمی ہو رہا ہے۔ یہ شعر اس گہری نفسیاتی کیفیت کو گرفت میں لیتا ہے جہاں انسان دانستہ یا نادانستہ خود ہی اپنا سب سے بڑا حریف بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
