“What has come over those who deal in cruelty? For having stayed faithful, it is we who feel ashamed.”
ظلم اور بے وفائی کرنے والوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے کہ وفا نبھانے کے باوجود شرمندگی ہمیں ہی اٹھانی پڑ رہی ہے۔
یہ شعر محبت اور معاشرے کے ایک عجیب الٹ پھیر کو سامنے لاتا ہے، جہاں ظلم اور بے وفائی کرنے والے تو بے خوف گھوم رہے ہیں، مگر سچی وفاداری نبھانے والا خود کو قصوروار محسوس کر رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جسے اپنی سچائی پر فخر ہونا چاہیے تھا، وہ جھینپ رہا ہے، جبکہ جفا کار بغیر کسی ندامت کے دندناتے پھرتے ہیں۔ شاعر غصے کے بجائے ایک دھیمی سی حیرت اور درد کے ساتھ اس الٹی دنیا کے المیے کو بیان کر رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
