ہمارے ہی دل سے مزے ان کے پوچھو
وہ دھوکے جو دانستہ ہم کھا رہے ہیں
“Ask only of our heart the sweet pleasure of those deceits, those deceptions that we knowingly and willingly embrace.”
— جگر مرادآبادی
معنی
ان دھوکھوں کا مزہ ہمارے دل سے پوچھو جو ہم جان بوجھ کر کھا رہے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں عشق کا ایک دلکش اور معصومانہ تضاد بیان ہوا ہے۔ محبوب کے جھوٹ اور فریب کو جانتے بوجھتے سچ مان لینا کوئی نادانی نہیں، بلکہ محبت کی وہ میٹھی خود سپردگی ہے جس میں ہارنے کا اپنا ہی سرور ہوتا ہے۔ دل اس دھوکے کو بھی ایک نعمت سمجھ کر قبول کرتا ہے کیونکہ اس بہانے محبوب کی دلنواز قربت اور توجہ میسر رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
