“Of their own accord, they grow consumed by remorse; God only knows what thoughts are crossing their mind.”
وہ خود بخود ہی نادم اور پشیمان ہوئے جا رہے ہیں، خدا ہی جانے ان کے دل و دماغ میں کیا کیا خیالات آ رہے ہیں۔
یہ شعر دل کی اس پشیمانی اور اندرونی کشمکش کی خوبصورت تصویر ہے جہاں انسان کو کوئی کچھ نہ کہے، پھر بھی وہ اپنے ہی ضمیر کے سامنے جھک جاتا ہے۔ محبوب پر کسی نے کوئی الزام نہیں لگایا، مگر وہ از خود ہی ندامت کے سمندر میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ شاعر بڑی محبت اور حیرت سے سوچتا ہے کہ نجانے ان کے ذہن میں کیا کیا وسوسے اور گمان گردش کر رہے ہیں جو انہیں یوں بے چین کیے ہوئے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
