“Repeating these words, we keep consoling the heart: / They have already departed, they are arriving now.”
ہم بار بار یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے رہے ہیں کہ وہ وہاں سے چل پڑے ہیں اور اب بس آ ہی رہے ہیں۔
یہ شعر انتظار کی بے چین کیفیت اور محبت کے اس میٹھے فریب کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں دل محض اُمید کے سہارے جی رہا ہوتا ہے۔ عاشق اپنے تڑپتے دل کو بار بار یہ تسلی دے کر بہلا رہا ہے کہ محبوب چل پڑے ہیں اور بس اب آنے ہی والے ہیں۔ ہجر کے لمحوں میں خود کو دیا جانے والا یہ دلاسا ظاہر کرتا ہے کہ بسا اوقات وصل کا گمان ہی انسان کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
