“What a strange station in love is this that we attain: arrived at the destination, yet still we journey on.”
محبت میں یہ کیسا موڑ آ گیا ہے کہ ہم اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں، مگر پھر بھی مسلسل چلے ہی جا رہے ہیں۔
یہ شعر عشق کے ایک پُراسرار اور خوبصورت موڑ کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں محبت کا کوئی آخری پڑاؤ نہیں ہوتا۔ بظاہر عاشق کو لگتا ہے کہ محبوب کا قرب پا کر منزل حاصل ہو گئی ہے، مگر دل کی طلب اور جستجو پھر بھی ختم نہیں ہوتی۔ شاعر بڑی خوبصورتی سے سمجھا رہے ہیں کہ سچی محبت کسی ٹھہراؤ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا لامتناہی سفر ہے جو منزل ملنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
